Govt hikes petrol price to Rs 458 per litre, HSD price to Rs 520 per litre
جب تیل مہنگا ہوتا ہے، غریب کا چولہا بجھتا ہے

غریب کی جھگی میں روشنی نہیں ہوتی
جب تیل مہنگا ہو، تو دیا بھی نہیں جلتا
آج رات حکومت نے ایک اعلان کیا جس نے کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں میں ایک سرد لہر دوڑا دی۔ پٹرول کی قیمت 321 روپے سے بڑھ کر 458 روپے فی لیٹر ہو گئی — یعنی ایک ہی رات میں 43% اضافہ۔ ڈیزل 335 سے 520 روپے — یعنی 55%۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے تکلیف دہ اضافہ ہے۔
وہ آدمی جو صبح 5 بجے اٹھتا ہے
ذرا سوچیے — لاہور، کراچی، پشاور کی تنگ گلیوں میں رہنے والا وہ مزدور جو صبح 5 بجے اٹھتا ہے، جس کی روزانہ کی اجرت 600 سے 800 روپے ہے، وہ کل صبح رکشے پر سوار ہو گا تو کرایہ مختلف ہو گا۔ بس کا کرایہ مختلف ہو گا۔ وہ ایک روٹی کمانے نکلے گا، لیکن راستے میں ہی اس کی آمدنی کا بڑا حصہ سفر کھا جائے گا۔
پاکستان میں 13 کروڑ سے زائد لوگ یومیہ اجرت پر گزارہ کرتے ہیں۔ ان کی تنخواہ نہیں بڑھی، ان کا کرایہ ابھی نہیں بڑھا — لیکن مہنگائی کی یہ آگ آج رات سے جل اٹھی ہے اور اس کی حدت کل صبح سے محسوس ہوگی۔
روٹی، سبزی، دودھ — سب مہنگا ہو گا
یاد رہے — پاکستان میں ہر چیز ٹرک پر آتی ہے۔ گندم پنجاب کے کھیتوں سے ٹرک پر، سبزی سندھ کے فارموں سے ٹرک پر، دودھ گاؤں سے شہر ٹرک پر۔ ڈیزل کی قیمت 55% بڑھنے کا مطلب ہے کہ ہر وہ چیز جو ٹرانسپورٹ پر منحصر ہے — یعنی تقریباً ہر چیز — مہنگی ہو جائے گی۔
ایک عام پاکستانی گھرانے کا ماہانہ کھانے کا خرچ پہلے ہی گزشتہ 2 سالوں میں دوگنا ہو چکا ہے۔ اب اس پر مزید بوجھ آنے والا ہے — اور یہ بوجھ سب سے پہلے غریب کی تھالی سے روٹی چھینے گا۔
وہ کسان جس کا ٹیوب ویل ڈیزل سے چلتا ہے
پاکستان کی معیشت کی بنیاد زراعت ہے۔ پنجاب اور سندھ کے لاکھوں چھوٹے کسان اپنی فصلوں کو پانی دینے کے لیے ڈیزل انجن پر منحصر ہیں۔ آج رات سے ان کے ٹیوب ویل چلانے کی لاگت 55% بڑھ گئی۔ گندم، چاول، گنا — ہر فصل کی پیداواری لاگت بڑھ گئی، اور اگر فصل کی قیمت نہ بڑھی تو کسان مزید قرضوں کے بوجھ تلے دب جائے گا۔ حکومت نے کسانوں کو ایک بار 1,500 روپے دینے کا وعدہ کیا ہے — یہ ایک مذاق سے کم نہیں۔
چھوٹا کاروباری — جس کی پشت پر پورا خاندان ہے
کسی چھوٹے شہر میں وہ آدمی جو اپنی موٹر سائیکل پر پھل بیچتا ہے، وہ ریڑھی والا جو صبح سبزی منڈی سے مال لاتا ہے، وہ ڈرائیور جو اپنی کار کو ٹیکسی کے طور پر چلاتا ہے — ان سب کے لیے آج کی رات بہت سخت ہے۔ ان کے پاس نہ بچت ہے، نہ قرضے لینے کی گنجائش۔ وہ یا تو اپنی چیز مہنگی کریں گے — اور خریدار کم ہو جائیں گے — یا نقصان اٹھائیں گے۔
موٹر سائیکل والے کو "راحت" — 100 روپے فی لیٹر سبسڈی
حکومت نے موٹر سائیکل سواروں کو ایک سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے — 3 ماہ کے لیے 100 روپے فی لیٹر، زیادہ سے زیادہ 20 لیٹر ماہانہ۔ یعنی ماہانہ 2,000 روپے کی بچت۔ لیکن پٹرول 137 روپے مہنگا ہوا ہے — تو اصل قیمت پھر بھی 358 روپے رہے گی۔ اور یہ سبسڈی صرف 3 ماہ کے لیے ہے — اس کے بعد؟ اس کے بعد کے بارے میں کوئی نہیں بولا۔
وزرا کے قافلے — عوام کی تکلیف
جب یہ اعلان ہو رہا تھا، اسی وقت اسلام آباد کی سڑکوں پر وزرا کی گاڑیاں قافلوں کی صورت میں چل رہی تھیں۔ ہر وزیر کے ساتھ اضافی سیکیورٹی گاڑیاں، اضافی ڈیزل، اضافی خرچہ — سب حکومتی خزانے سے۔ وزیراعظم نے اقتصادی سختی کا اعلان کیا، لیکن وزارتی دفاتر کی گاڑیوں کی پالیسی نہیں بدلی۔ یہ تضاد ہی وہ زخم ہے جو عوام کے دل پر سب سے گہرا لگتا ہے۔
ملک میں غربت 11 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ آمدنی کا فرق 27 سال میں سب سے زیادہ ہے۔ بے روزگاری 21 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ اور اسی وقت پٹرول کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
آئی ایم ایف — جس کا حکم ماننا پڑتا ہے
حکومت نے خود کہا کہ آئی ایم ایف نے سبسڈی کی حد 152 ارب روپے مقرر کی اور اس سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ یعنی ہماری حکومت چاہتے ہوئے بھی عوام کو راحت نہیں دے سکتی۔ یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے — لیکن اس سے بھی تکلیف دہ یہ ہے کہ ہم یہاں تک کیوں پہنچے؟ قرضوں کی یہ زنجیریں کئی دہائیوں کی بد انتظامی، کرپشن اور غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، اور آج ان کی قیمت وہ غریب چکا رہا ہے جو نہ قرضے لینے کی پالیسی بنانے والوں میں تھا، نہ اس کے فائدے سے مستفید ہوا۔
پاکستان کے عوام صبر کا پہاڑ ہیں۔ انہوں نے بار بار تکلیف اٹھائی، بار بار سنبھلے، بار بار آگے بڑھے۔ آج کی رات ان کے لیے بہت بھاری ہے — لیکن ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ قوم ہر مشکل سے نکلتی رہی ہے۔ دعا ہے کہ حکمران اپنے عوام کا درد محسوس کریں، اور وہ دن جلد آئے جب ہر پاکستانی آسانی سے سانس لے سکے۔
CarDeal
Bringing you the latest automotive news and insights from Pakistan

